ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنگلاتی زمین پر اتی کرم داروں کی طرف سے سرسی محکمہ جنگلات کے دفتر کا محاصرہ

جنگلاتی زمین پر اتی کرم داروں کی طرف سے سرسی محکمہ جنگلات کے دفتر کا محاصرہ

Sun, 24 Feb 2019 22:55:33    S.O. News Service

سرسی24؍فروری (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے جنگلات کے اندر برسہابرس سیرہائشی اور زراعتی مقاصد سے زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کا جو حکم جاری کیا ہے اور اتی کرمن کو سکرمن کرنے کی کارروائی جاری رہنے کے باوجود محکمہ جنگلات کے افسران جنگل واسیوں پر جو ستم ڈھارہے ہیں اس کی مخالفت اور مذمت میں اتی کرم داروں کی طرف سے سنیچر کے دن سرسی میں واقع محکمہ جنگلات کے دفتر کا محاصرہ کیا گیا۔

عدالت کے حکم کی وجہ سے اپنی جنگلاتی زمین سے بے دخل ہوکر سڑک پر آجانے کی حالت کو پہنچنے والے جنگل واسیوں کے ہجوم نے یلاپور ناکہ سے جلوس نکالا اوراپنے مطالبات پورا کرنے کے لئے نعرے لگائے۔پھر یہ ہجوم کینرا چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ کے دفتر کا محاصرہ کرنے کے لئے آگے بڑھا اور مظاہرین پولیس کے طرف سے قائم کی گئی رکاوٹوں کو پھلانگنے کی کوشش کرنے لگے تو حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ ہو گئے۔محکمہ جنگلات کے دفتر کے مین گیٹ کو تالا لگائے جانے سے مظاہرین کچھ زیادہ ہی مشتعل ہوگئے تھے۔اس موقع پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے گیٹ کا تالا کھلوا کر لوگوں کے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔

مظاہرین نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا ختم نہ کرنے کی ضد پکڑ لی تھی اور مطالبہ رکھاتھا کہ اتی کرمن سکرمن کرنے کی کارروائی پوری ہونے تک اور جنگلاتی حقوق قانون کی موجودگی میں کسی کو جنگلاتی زمین سے بے دخل نہ کیا جائے۔ اگر محکمہ جنگلات کے افسران لوگوں کو جنگل سے بھگانے اور زمینیں خالی کروانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تو پھر اس سے زیادہ پرزور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

اس کے ردعمل میں سی سی ایف اشوک باسرکوڈ نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ جنگلاتی حقوق قانون کی موجودگی میں کسی کو بھی جنگلاتی زمین خالی کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا۔اوراتی کرم داروں سے زمینیں خالی کروانے کی جو رپورٹ حکومت کو دی گئی ہے اس کو درست کرلیا جائے گا۔اس کے بعد احتجاجی مظاہرہ ختم کیا گیا۔

اس موقع پر اتی کرم داروں کے حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والی کمیٹی کے صدر رویندرا نائک، سدانند بھٹ، شوبھا نائک، راما موگیر، ابراہیم صاب اور دیگر لیڈران موجود تھے۔

مرکزی حکومت آرڈی نینس لائے: کاروار کے سابق رکن اسمبلی ستیش سائیل نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے آبا و اجداد کے زمانے سے جنگلاتی زمین پررہائش پزیر افراد کو بے دخل کرنے کا جو حکم سپریم کورٹ سے جاری ہواہے اس کے خلاف مرکزی حکومت آر ڈی نینس لائے اور جنگل واسیوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ستیش سائیل کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران کی کوتاہیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد کی درخواستیں نامنظور ہوئی ہیں اور وہ لوگ اپنی زمینوں سے بے دخل ہوکر سڑک پر آجانے کی نوبت آئی ہوئی ہے۔ اس لئے غریب عوام کے مفاد کے لئے مرکزی حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بے اثر کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے آرڈی نینس جاری کیے گئے ہیں اور عوامی مسائل کو حل کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں بھی عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر قانون میں رد وبدل کرتے ہوئے فوری طور پرمرکزی حکومت کو آر ڈی نینس جاری کردینا چاہیے۔


Share: